‫‫کیٹیگری‬ :
13 October 2018 - 19:53
News ID: 437383
فونت
آیت الله جوادی ‌آملی :
حضرت ‌آیت الله جوادی نے اس بیان کے ساتھ کہ پاک ملک گناہ سے آلودہ انسان کو قبول نہیں کرتا ہے اور اس کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بیان کیا : جس شخص نے بھی اسلامی نظام و قوم سے مقابلہ کیا ہے اور ملک میں کرپشن و حد سے زیادہ تنخواہ لی ہے بہت ہی جلد اس کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
آیت الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد و مفسر قرآن کریم حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ اپنے درس میں خانوادہ کو معاشرے کا ستون جانا ہے اور کہا : مہر و محبت خانوادے اور معاشرے کے آداب کو ادارہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی : جس طرح طاقت ، قدرت و غصہ دشمن سے جنگ کو ادارہ کرتا ہے اسی طرح ملک کی داخلی نظام ادب و محبت کے ذریعہ ادارہ ہوتے ہیں اس کے علاوہ ممکن نہیں ہے ، تقوا یہ ہے کہ انسان الہی ارادہ کے راہ میں قرار پائے ، کبھی انسان سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو خداوند عالم اس کو معاف کر دیتا ہے لیکن کبھی انسان جان کر عمدی صورت میں الہی راہ سے دوری اختیار کرتا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ تمام امور الہی صرط مستقیم کے راہ پر انجام پاتے ہیں بیان کیا : جو شخص الہی تقوا رکھتا ہو کبھی بھی صراط مستقیم سے منحرف نہیں ہو سکتا کیوں کہ خداوند عالم صراط مستقیم پر انسان کے امور کو ادارہ کرنے کا ذمہ دار ہے ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا : کج راہی خداوند عالم کا کام نہیں ہے اور ایسے حالت میں خود شخص کو چاہیئے کہ اپنے امور کو اپنے ذمہ رکھے کہ جو اس کے امکان میں نہیں ہوگا ، اگر کوئی اس مقام تک پہوچ جائے کہ خداوند عالم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے تو وہ کس طریقہ سے اپنی زندگی کی ضرورت کو پوری کرے گا ؟

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اس بیان کے ساتھ کہ الہی وعدہ کے مطابق با تقوا انسان کا کام رائیگاں نہیں جاتا ہے بیان کیا : کبھی خود انسان وکیل ، الہی فیض کو جاری کرنے کا وسیلہ ہوتا ہے ، اسلام کے دشمنوں سے مقابلہ جیسے جہاد میں خداوند عالم انسان کے ذریعہ کام انجام دیتا ہے ۔

انہوں نے بیان کیا : اگر کوئی شخص اپنی خانوادگی زندگی میں اقتصادی مشکلات میں تقوا الہی کے راہ میں ہو تو خداوند عالم اس کی مدد کرتا ہے اور جو شخص دین کے راہ میں قائم رہتا ہے اس کی زندگی کے اخراجات خداوند عالم کے ذمہ ہے ، اگر جو شخص صراط مستقیم پر نہ ہو تو سخت مشکل میں گرفتار ہوگا ، اگر کوئی شخص غلط راہ پر گامزن ہے تو اس نے جان کر خود کو فیض الہی سے محروم کیا ہے ۔

قرآن کریم کے مشہور مفسر نے بیان کیا : شرک کا مہلک ٹیومر بہت سارے انسان کے اندر پایا جاتا ہے ، امور کا غیر خدا کی طرف نسبت دینا وہی مہلک ٹیومر ہے ۔ یہ کہ انسان غیر خداوند عالم کے لئے کسی شان و احترام و مقام کا قائل ہو یہ بے معنی ہے ، اگر انسان کی مشکلات دوسروں کے ذریعہ حل ہو تو خداوند عالم کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اس کی مشکلات اس راہ سے حل ہو گیا نہ یہ کہ کہا جائے پہلے خدا اس کے بعد فلاں شخص اس مشکل کو حل کرنے کا سبب ہوا ہے ۔/۹۸۹/ف۹۷۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬